شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنااب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشا نہ بنا
نہ دکھا پائے گا تُو خواب میری آنکھوں کےاب بھی کہتا ہوں مصور میرا چہرہ نہ بنا
لہو روتے نہ اگر ہم دمِ رخصت یاراںکیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتےچلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنےوہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے
مجھ سے اب اور تماشہ ہو نہیں سکتا
لے جا یہ دکھاوے کی ہنسی بھی آ کر